جمعہ 12 جون 2026 - 14:21
چائلڈ لیبر میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ غیرمنصفانہ معاشی سسٹم ہے / بجٹ عام آدمی کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے مرتب کیا جائے

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: بچو ں سے مشقت معاشرتی برائیوں میں انتہائی قبیح فعل ہے۔ مستقبل کے معماروں کیلئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ تربیت و تعلیم اور روشن مستقبل کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 12 جون، چائلڈ لیبر ڈے اور بجٹ 2026-27 کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: عام آدمی انتہائی مشکلات کا شکار ہے، بجٹ عام آدمی کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے مرتب کیا جانا لازم ہے، چائلڈ لیبر میں مسلسل اضافہ کی بنیادی وجہ استحصالی و غیر منصفانہ معاشی سسٹم، بچو ں سے مشقت معاشرتی برائیوں میں انتہائی برا فعل ہے۔

انہوں نے مزید کہا: آئے روز مہنگائی سے عام آدمی انتہائی مشکلات کا شکارہے اور پورا سال آنیوالے منی بجٹ نے عام شخص کی اقتصادیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جبکہ خطے کی کشیدہ صورتحال، پٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے اور بجلی و گیس کے بلز ہوں یا ادویات، انتہائی ضروری اشیائے خورونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا: ایسی صورتحال میں بجٹ ان عوامی مشکلات دیکھتے ہوئے بنایا جانا لازم ہے۔ افسوس آج تک جتنے بجٹ پیش ہوئے وہ الفاظ کے گورکھ دھندے سے زیادہ کچھ نہیں تھے اور عام آدمی کو اس سے نہ صرف بے تعلق رکھا گیا بلکہ بجٹ کا نام سنتے ہی اور مسلسل بڑھتی مہنگائی سے اس پر سکتے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: بچوں سے مشقت کا عالمی دن بھی بجٹ کے ایام میں آرہا ہے۔ بچوں سے مشقت معاشرتی برائیوں میں انتہائی برا فعل ہے، چائلڈ لیبر میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ یہی استحصالی و غیر منصفانہ معاشی نظام ہے، اسلام کا حسن ہے کہ اس نے مرد و زن، بزرگ شہریوں کے ساتھ بچوں کے حقوق پر بھی زور دینے کے ساتھ مکمل لائحہ عمل دیا ہے۔

علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: مستقبل کے معماروں کیلئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ تربیت و تعلیم اور روشن مستقبل کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تک دنیا میں تقریباً 200 ملین سے زائد بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت طاقتور اداروں اور ملکوں کو اس غیر مساویانہ معاشی تقسیم کا حل نکالنا ہو گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha